soching.com

Think Deep. Live Wise.

حسد – دل کی وہ آگ جو دماغ کو بھی جلا دیتی ہے

حسد ایک ایسا منفی جذبہ ہے جو انسان کے دل میں خاموشی سے پیدا ہوتا ہے لیکن آہستہ آہستہ پورے وجود کو متاثر کرنے لگتا ہے۔ یہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم دوسروں کی کامیابی یا خوشی کو دیکھ کر تکلیف محسوس کرتے ہیں۔ یہ تکلیف دل سے نکل کر دماغ تک پہنچتی ہے، اور انسان نہ صرف دوسروں سے دور ہونے لگتا ہے بلکہ اپنے اندر بھی ایک عجیب سا خلا محسوس کرتا ہے۔ حسد، دراصل خود کو کمتر سمجھنے اور دوسروں سے تقابل کرنے کا نتیجہ ہوتا ہے۔

حسد دماغ پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟

سائنس کے مطابق جب انسان حسد محسوس کرتا ہے تو دماغ کے وہ حصے ایکٹیو ہو جاتے ہیں جو عام طور پر خطرے یا خوف کے وقت حرکت میں آتے ہیں۔ خاص طور پر amygdala نامی حصہ متحرک ہو جاتا ہے، جو دماغ میں خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔ حسد کے دوران دماغ تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے اور جسم میں cortisol نامی تناؤ پیدا کرنے والا ہارمون بڑھ جاتا ہے، جو ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور چڑچڑے پن کا باعث بنتا ہے۔ اگر یہ کیفیت دیر تک جاری رہے تو یہ ذہنی صحت کو سخت نقصان پہنچاتی ہے۔

مسلسل تقابل اور خود اعتمادی کی کمی

حسد کی ایک بنیادی وجہ خود کا دوسروں سے مسلسل تقابل کرنا ہے۔ جب انسان دوسروں کی زندگی اور کامیابیوں کو اپنے معیار سے بہتر سمجھنے لگتا ہے، تو وہ اپنے اندر کمزوری محسوس کرتا ہے۔ دماغ میں reward system، یعنی خوشی اور اطمینان پیدا کرنے والا نظام، غیر متوازن ہو جاتا ہے۔ انسان جو کچھ حاصل کر چکا ہوتا ہے، اسے بھی معمولی سمجھنے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں زندگی بے مزہ لگنے لگتی ہے اور خوشی کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔

اسلامی تعلیمات اور حسد

اسلام میں حسد کو سختی سے منع کیا گیا ہے کیونکہ یہ نہ صرف اخلاقی طور پر برا عمل ہے بلکہ روحانی طور پر بھی نقصان دہ ہے۔ قرآن پاک کی سورۃ الفلق میں اللہ تعالیٰ نے حسد کرنے والے سے پناہ مانگنے کی تلقین کی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حسد انسان کے اعمال کو بھی ضائع کر دیتا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونا اور دل میں بغض نہ رکھنا، ایک سچے مومن کی علامت ہے۔

watch video

حسد سے نجات کیسے ممکن ہے؟

حسد سے نجات حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے اپنی سوچ بدلنا ضروری ہے۔ انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر کسی کا نصیب اللہ کے ہاتھ میں ہے اور جو ہمیں ملا ہے وہ ہمارے لیے بہترین ہے۔ دوسروں کی کامیابی کو ان کی محنت کا پھل سمجھ کر دل سے خوشی محسوس کرنا چاہیے۔ عبادات، شکرگزاری اور مثبت سوچ انسان کو اس منفی جذبے سے آزاد کر سکتی ہے۔ جب انسان اپنی توجہ دوسروں پر رکھنے کے بجائے اپنی ذات کو بہتر بنانے میں لگا دیتا ہے، تب ہی حقیقی تبدیلی آتی ہے۔

حسد دماغ پر سائنسی طور پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟

جب انسان حسد محسوس کرتا ہے، تو اس کے دماغ میں وہی حصے متحرک ہو جاتے ہیں جو خوف، خطرے یا تناؤ کی حالت میں حرکت میں آتے ہیں۔ خاص طور پر دماغ کا حصہ جسے “ایمیگڈالا” (Amygdala) کہا جاتا ہے، اس وقت بہت زیادہ سرگرم ہو جاتا ہے۔ ایمیگڈالا انسان کے جذباتی ردِعمل کو کنٹرول کرتا ہے اور جب اسے لگتا ہے کہ کسی دوسرے کی کامیابی ہمیں خطرہ بن سکتی ہے، تو وہ تناؤ کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ اس وقت جسم میں “کورٹیسول” (Cortisol) نامی ہارمون خارج ہوتا ہے، جو تناؤ پیدا کرنے والا ہارمون ہے۔ یہ ہارمون اگر لمبے عرصے تک جسم میں زیادہ مقدار میں موجود رہے تو یہ دماغی خلیات کو نقصان پہنچا سکتا ہے، یادداشت کو کمزور کر سکتا ہے، اور نیند، توجہ اور فیصلہ سازی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

حسد کے دوران ایک اور خاص بات یہ ہوتی ہے کہ دماغ کا “ریوارڈ سسٹم” یعنی خوشی اور اطمینان دینے والا نظام، غیر متوازن ہو جاتا ہے۔ عام طور پر جب ہم کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں یا کوئی خوشی کی بات سنتے ہیں، تو دماغ “ڈوپامائن” (Dopamine) خارج کرتا ہے جو ہمیں خوشی کا احساس دیتا ہے۔ لیکن جب ہم حسد کا شکار ہوتے ہیں تو دماغ دوسرے کی کامیابی کو اپنا نقصان سمجھنے لگتا ہے، اور یوں ڈوپامائن کی سطح متاثر ہوتی ہے۔ انسان خوشی کے مواقع میں بھی ناخوش رہتا ہے، اور اس کی اپنی کامیابیاں بھی بے اثر لگنے لگتی ہیں۔

تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ مسلسل حسد میں مبتلا رہتے ہیں، ان کے دماغ میں منفی سوچنے کی عادت پختہ ہو جاتی ہے۔ دماغ ہر چیز کو مقابلے کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے، اور اس سے دماغ کے نیورونز یعنی اعصابی خلیات ایک خاص منفی پیٹرن میں جڑ جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان دوسروں کی خوشی دیکھ کر صرف تکلیف محسوس کرتا ہے، اور یہ کیفیت عادت بن جاتی ہے۔

مزید سائنسی تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حسد دماغ میں “anterior cingulate cortex” اور “prefrontal cortex” جیسے حصوں کو بھی متاثر کرتا ہے، جو کہ انسان کے خود پر قابو رکھنے، صحیح فیصلہ کرنے اور جذبات پر کنٹرول رکھنے کے کام آتے ہیں۔ جب حسد بڑھتا ہے تو ان حصوں کی کارکردگی کمزور ہو جاتی ہے، اور یوں انسان غصے، غیبت، سازش یا منفی ردِعمل کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔

لہٰذا، سائنس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ حسد صرف ایک جذباتی کیفیت نہیں، بلکہ دماغی صحت کو خراب کرنے والی حقیقی بیماری ہے۔ یہ انسان کے ذہنی سکون، یادداشت، نیند، توجہ اور خوشی کو ختم کر دیتا ہے، اور دماغ کے نظام کو بگاڑ دیتا ہے۔ اگر انسان اس کیفیت کو وقت پر نہ سنبھالے تو یہ نہ صرف اس کی ذہنی حالت کو متاثر کرتی ہے بلکہ طویل مدت میں جسمانی صحت کو بھی خراب کر سکتی ہے۔

مزید بلاگز پڑھیں

نتیجہ

حسد ایک چھپی ہوئی بیماری ہے جو انسان کو اندر ہی اندر جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ یہ دل سے شروع ہو کر دماغ اور روح تک پہنچ جاتی ہے۔ اس سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے دل کو صاف رکھیں، دوسروں کے لیے خیر چاہیں اور اللہ کی تقسیم پر راضی رہیں۔ جب ہم شکر گزار ہو جاتے ہیں تو حسد خود بخود ختم ہونے لگتا ہے، اور ہمارے دل میں سکون، محبت اور اطمینان جگہ لینے لگتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top