خاموش نظراندازی بھی ایک زبان رکھتی ہے
کبھی کبھی کوئی شخص ہم سے ناراض ہوتا ہے، لیکن اُس کی ناراضگی میں بھی ایک بےقراری چھپی ہوتی ہے۔ وہ چاہ کر بھی مکمل طور پر ہمیں نظرانداز نہیں کر پاتا۔ وہ سامنے بیٹھا ہوتا ہے، آنکھیں بار بار ہماری طرف آتی ہیں، لیکن منہ دوسری طرف رکھتا ہے — جیسے خود سے لڑ رہا ہو۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب خاموشی خود ایک زبان بن جاتی ہے، اور ہم بےآواز چیخیں سن سکتے ہیں۔
جب دل دیکھنا چاہے لیکن انا روک دے

محبت ہو یا دوستی، ناراضی آنا فطری ہے۔ لیکن جب کوئی ہمیں دیکھنا چاہتا ہے، بات کرنا چاہتا ہے، پھر بھی خود کو روک لیتا ہے — تو یہ محض ignore کرنا نہیں ہوتا، بلکہ ایک اندرونی جنگ ہوتی ہے۔ انا، تکبر یا دکھ کے نیچے دبا ہوا وہ احساس، جو ابھی بھی ہم سے جڑا ہے۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ شخص اتنا ناراض نہیں جتنا وہ ظاہر کر رہا ہے، بلکہ وہ خود کو روکنے میں توانائی خرچ کر رہا ہے۔
آنکھیں سب کہہ جاتی ہیں
کبھی آنکھیں وہ سب بول جاتی ہیں جو زبان چھپا رہی ہوتی ہے۔ تم نے اگر کسی کو ایسے دیکھا ہے کہ وہ نظریں تمہاری طرف لاتا ہے مگر فوراً ہٹا لیتا ہے، تو سمجھ لو کہ اس کا دل ابھی بھی تمہاری موجودگی سے متاثر ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان خود کو یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ “مجھے فرق نہیں پڑتا”، مگر اس کی آنکھیں اس کی سچائی بیان کر دیتی ہیں۔
یہ نظرانداز نہیں، جذبوں کی شدت ہے
ایسا رویہ صرف ignore نہیں ہوتا، بلکہ ایک اندرونی جذباتی طوفان کی نشانی ہوتا ہے۔ جتنا کوئی شخص خود کو روک رہا ہو، اتنا ہی وہ متاثر ہے۔ یہ ایک قسم کا غیر زبانی اظہار ہے، جو چاہے خاموش ہو، لیکن بہت کچھ کہہ جاتا ہے۔ اور یہ تبھی ہوتا ہے جب کسی کے دل میں ابھی بھی احساس باقی ہو، تمہاری اہمیت باقی ہو۔
شاید اُس کے دل میں ابھی بھی تم ہو
یہ سب اشارے بتاتے ہیں کہ تم اُس کے دل میں اب بھی ہو۔ اُس کی خاموشی، اُس کی نظراندازی، اُس کی جھکی نظریں — سب کچھ کہتا ہے کہ کوئی بات ادھوری ہے، کوئی احساس دبا ہوا ہے، کوئی تعلق اب بھی اندر کہیں باقی ہے۔