تعارف
شکوہ کرنا یا ہر بات پر شکایت کرنا ایک ایسی عادت ہے جو آہستہ آہستہ انسان کے ذہنی سکون کو ختم کر دیتی ہے۔ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ شکوہ صرف دل کا بوجھ ہلکا کرنے کا ایک طریقہ ہے، لیکن حقیقت میں یہ دماغ اور مزاج دونوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اس بلاگ میں ہم دیکھیں گے کہ شکوہ کرتے رہنے کی عادت کیسے بنتی ہے، دماغ پر کیا اثر ڈالتی ہے، اور اس سے بچنے کے آسان طریقے کیا ہیں۔

شکوہ کرنے کی عادت کیسے بنتی ہے
جب انسان ہر چھوٹی بڑی بات میں کمی، ناکامی یا منفی پہلو تلاش کرنے لگتا ہے تو آہستہ آہستہ شکایت کرنا اس کی عادت بن جاتی ہے۔ یہ رویہ زیادہ تر منفی سوچ سے پیدا ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ یہ عام سا عمل لگنے لگتا ہے۔ روزمرہ کی معمولی باتوں پر بھی شکوہ کرنے کی عادت ذہنی سکون چھین لیتی ہے۔
دماغ پر اثرات
سائنس کے مطابق، جب ہم شکوہ کرتے ہیں تو دماغ میں ایک ہارمون “کارٹیسول” (Cortisol) کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ یہ ہارمون دراصل ذہنی دباؤ (Stress) پیدا کرتا ہے۔ اس کے اثرات میں شامل ہیں:
- ذہنی دباؤ اور بے چینی میں اضافہ
- مزاج کا بگڑ جانا اور جلد غصہ آنا
- فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں کمی
- مثبت سوچ کی کمی
اگر یہ عادت مسلسل جاری رہے تو دماغ میں منفی سوچ کے نئے راستے بن جاتے ہیں، جنہیں توڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔

رشتوں اور معاشرتی تعلقات پر اثر
شکوہ کرنا صرف آپ کے دماغ کو متاثر نہیں کرتا بلکہ آپ کے تعلقات کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ لوگ ایسے شخص سے دور رہنا پسند کرتے ہیں جو ہر وقت شکایت کرتا ہو، کیونکہ اس کے قریب رہنا ذہنی تھکن پیدا کرتا ہے۔ اس سے تنہائی اور سماجی فاصلے پیدا ہو سکتے ہیں۔
اس سے بچنے کے طریقے
شکوہ کم کرنے کا بہترین طریقہ شکر گزاری اپنانا ہے۔ روزانہ کم از کم تین چیزیں نوٹ کریں جن کے لیے آپ اللہ کے شکر گزار ہیں۔ اپنی سوچ کو جان بوجھ کر مثبت سمت میں موڑنے کی کوشش کریں، اور ہر حال میں مثبت پہلو تلاش کرنے کی عادت ڈالیں۔
نتیجہ
شکوہ کرتے رہنا ایک ذہنی زہر کی طرح ہے جو آہستہ آہستہ دماغ، مزاج اور رشتوں کو کمزور کرتا ہے۔ اس عادت کو پہچاننا اور اس سے نجات پانا ضروری ہے، ورنہ یہ زندگی کا سکون چھین سکتی ہے۔